حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی والدہ کی خدمت اور قربانی –
تعارف ()
اسلام صرف عبادات کا دین نہیں ہے بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہ انسان کو صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں رکھتا بلکہ روزمرہ زندگی میں اعلیٰ اخلاق اور اقدار کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ انہی اقدار میں سب سے اہم والدین کی خدمت اور ان کا احترام ہے۔ قرآن مجید میں بار بار یہ حکم آیا ہے کہ اللہ کی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
مزید برآں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ یہ تعلیم ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اولاد کی سب سے بڑی کامیابی والدین کی خوشنودی میں ہے۔
والدین اپنی زندگی اپنی اولاد پر قربان کر دیتے ہیں۔ ماں دن رات جاگ کر اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے اور باپ اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اولاد کبھی ان کا حق ادا نہیں کر سکتی لیکن کوشش یہی ہونی چاہیے کہ خدمت، محبت اور احترام کے ذریعے ان کی دعائیں لی جائیں۔
اسلامی تاریخ میں ایسے کئی لوگ گزرے ہیں جنہوں نے والدین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ انہی عظیم ہستیوں میں حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ان کی زندگی والدہ کی خدمت، عاجزی اور اطاعتِ الٰہی کا ایک روشن نمونہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ نے نبی کریم ﷺ کو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ ان سے دعا کروائیں۔ یہ درجہ صرف والدہ کی خدمت اور قربانی کی وجہ سے ملا۔ چنانچہ، یہ کہانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے سبق ہے۔
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا پس منظر ()
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ یمن کے قبیلہ قَرَن سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ نہایت سادہ اور غریب زندگی بسر کرتے تھے۔ کپڑے پرانے ہوتے، جوتے گھسے ہوئے ہوتے لیکن دل اللہ کی محبت اور رسول ﷺ کی عقیدت سے بھرا ہوا تھا۔
مزید یہ کہ وہ اونٹ چرانے کا کام کرتے تھے۔ مزدوری سے جو کچھ کماتے، اس کا بڑا حصہ والدہ کے علاج اور آرام پر خرچ کر دیتے۔ اگر کھانے کو کم بھی ملتا تو اپنی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیتے لیکن والدہ کو تکلیف نہ ہونے دیتے۔
یہی نہیں، ان کے پاس دنیاوی دولت نہیں تھی لیکن ایمان، محبت اور خدمت کے خزانے سے وہ مالا مال تھے۔ ان کی یہ صفات انہیں دوسرے عام لوگوں سے ممتاز کرتی تھیں۔
—
والدہ کی خدمت اور ان کا حکم ()
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی والدہ نابینا اور بیمار تھیں۔ وہ دن رات ان کی خدمت کرتے۔ کھانا کھلانے سے لے کر کپڑے دھونے تک ہر کام خود کرتے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ماں کو راحت دینا تھا۔
ایک دن والدہ نے محسوس کیا کہ ان کے بیٹے کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا: “بیٹا! مجھے پتا ہے کہ تم مدینہ جانا چاہتے ہو لیکن میری بیماری کی وجہ سے میں تمہیں زیادہ وقت کے لیے اجازت نہیں دے سکتی۔”
>یہ بات سن کر اویس قرنی رحمہ اللہ نے عاجزی سے جواب دیا: “اماں! آپ کی خدمت ہی میرے لیے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے برابر ہے۔”
بالآخر ایک موقع پر انہی
ں مدینہ جانے کی اجازت ملی۔ وہ بڑی محبت اور شوق کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے۔ لیکن اس وقت رسول اللہ ﷺ گھر پر موجود نہ تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لے گئے ہیں۔ اویس قرنی رحمہ اللہ نے سوچا کہ والدہ کی خدمت میں تاخیر نہ ہو جائے، اس لیے زیارت کے بغیر واپس لوٹ گئے۔<یہ قربانی معمولی نہیں تھی۔ مدینہ پہنچ کر بھی زیارت کا موقع ہاتھ آیا لیکن والدہ کی خدمت کو مقدم جانا۔ یہی وہ عمل تھا جس نے ان کے مقام کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔/
رسول اکرم ﷺ کی گواہی ()
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ا
ور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“یمن سے ایک شخص آئے گا جس کا نام اویس ہوگا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہوگا۔ اگر تم اسے دیکھو تو اس سے دعا کروانا، اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔” (مسلم شریف)
اس فرمانِ نبوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت کس قدر بلند مقام دلاتی ہے۔ اویس قرنی رحمہ اللہ نے والدہ کے لیے اپنی خواہش قربان کی، اور اللہ نے انہیں ایسا درجہ دیا کہ صحابہ کرام ان سے دعا کروانے لگے۔
جب بعد میں حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات اویس قرنی رحمہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: “ہمارے لیے دعا کریں۔” یہ منظر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ خدمتِ والدین کی برکت سے کس طرح ایک عام آدمی اولیاء کے مرتبے تک پہنچ جاتا ہے۔

آج کے دور کے لیے سبق ()
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ والدین کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ آج کے دور میں نوجوان اپنی مصروفیات میں والدین کو نظر انداز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عبادت صرف مسجد تک محدود ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ والدین کی خدمت بھی اللہ کی عبادت ہے۔
مزید برآں، اگر ہم سکونِ قلب، رزق میں برکت اور دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں والدین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہوگا۔ ان کی دعائیں ایسی ہیں جو تقدیر بدل دیتی ہیں۔
اسی لیے، ہمیں چاہیے کہ والدین کی خدمت میں کوتاہی نہ کریں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی نیکی ہے۔ ان کے لیے وقت نکالنا، ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا اصل کامیابی ہے۔
والدین کے حقوق – اسلام سوال و جواب
اختتامیہ دعا ()
اے اللہ! ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنا۔ اے اللہ! حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی زندگی سے سبق لینے کی ہمت عطا فرما اور ہمیں والدین کی دعاؤں کی برکت سے کامیابی نصیب فرما۔ آمین۔
❓ FAQS )
سوال 1: حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کون تھے؟
جواب: حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ یمن کے قبیلہ قرن سے تعلق رکھنے والے تابعی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنی والدہ کی خدمت اور اللہ کی اطاعت میں گزاری۔
سوال 2: حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو کیوں نہیں دیکھا؟
جواب: وہ اپنی والدہ کی خدمت کو مقدم رکھتے تھے۔ مدینہ جانے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ گھر پر موجود نہ تھے، اور خدمت میں تاخیر نہ ہو اس لیے واپس لوٹ گئے۔
سوال 3: رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا فرمایا؟
جواب: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یمن سے ایک شخص آئے گا جس کا نام اویس ہوگا، جو اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا ہوگا۔ اس سے دعا کروانا کیونکہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
سوال 4: حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین کی خدمت سب سے بڑی نیکی اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ان کی دعائیں دنیا و آخرت کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔
سوال 5: کیا والدین کی خدمت عبادت کے برابر ہے؟
جواب: جی ہاں، اسلام میں والدین کی خدمت کو عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن اور احادیث میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ مزید اس طرح کی پوسٹ دیکھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں www.deenkiraah.com


