ایک یتیم کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی شفقت – اسلامی کہانی قرآن و حدیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ کی شفقت سے یتیم بچے کو عید کے دن خوشی دینا – اسلامی ک

ایک یتیم کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی شفقت – اسلامی کہانی قرآن و حدیث کی روشنی میں

تعارف ()

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس دین میں عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ دین انسان کو دوسروں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

انہی معاشرتی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم پہلو یتیم کی کفالت اور ان سے حسن سلوک ہے۔ یتیم وہ بچہ ہے جو اپنے والد سے محروم ہو جائے۔ اسلام نے یتیموں کے حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ کیونکہ وہ نہ صرف سہارا کھو بیٹھتے ہیں بلکہ زندگی کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے کے لیے کمزور ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار یتیموں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے مال کی حفاظت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنے کو پسند فرمایا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اس بات کی عملی مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ یتیموں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف یتیموں کے حقوق بیان فرمائے بلکہ عملی طور پر ان کے ساتھ محبت بھی کی۔ کئی یتیم بچوں کو سہارا دیا۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے قیامت تک رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

نبی کریم ﷺ کا یتیموں کے ساتھ برتاؤ (

رسول اللہ ﷺ کی ذات رحمت للعالمین ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو یہ تعلیم دی کہ یتیم کے ساتھ سختی نہ کرو۔ بلکہ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آؤ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بھی یہی حکم دیا ہے کہ یتیم کو دھتکارو مت۔ اس کے دل کو دکھاؤ مت۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے یہ دونوں انگلیاں۔”
(صحیح بخاری)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والا قیامت کے دن جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگا۔ یہ دراصل اس بات کی ترغیب ہے کہ مسلمان یتیموں کو نظر انداز نہ کریں۔ بلکہ ان کے ساتھ محبت اور خیال رکھنے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

واقعہ: یتیم بچے کے ساتھ حضور ﷺ کی شفقت ()

سیرت النبی ﷺ میں ایک مشہور واقعہ ملتا ہے۔ ایک یتیم بچہ عید کے دن مدینہ کی گلیوں میں غمگین بیٹھا تھا۔ سب بچے نئے کپڑوں میں خوشی منا رہے تھے۔ مگر یہ یتیم بچہ اداس تھا۔ کیونکہ اس کے والد شہید ہو چکے تھے۔ گھر میں خوشی کا سامان نہیں تھا۔

نبی کریم ﷺ جب وہاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے اس بچے کو روتے دیکھا۔ آپ ﷺ قریب گئے اور بڑی محبت سے پوچھا:
“بیٹے! تم کیوں رو رہے ہو؟”

بچے نے جواب دیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! میرے والد دنیا میں نہیں ہیں۔ اس لیے عید کے دن میرے پاس کوئی نہیں جو مجھے نئے کپڑے دلائے یا میری خوشی میں شریک ہو۔”

یہ سن کر نبی کریم ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آپ ﷺ نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
“کیا تم راضی نہیں کہ محمد ﷺ تمہارے والد ہوں اور عائشہ رضی اللہ عنہا تمہاری ماں ہوں؟”

بچہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ رسول اللہ ﷺ اسے اپنے گھر لے گئے۔ نئے کپڑے پہنائے۔ پیار دیا اور عید کی خوشیوں میں شریک کیا۔

اس دن کے بعد وہ بچہ کبھی تنہا محسوس نہ کرتا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کا سہارا خود نبی کریم ﷺ ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ یتیم کے دل کو خوش کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔

یتیم کی کفالت پر قرآن کی آیات (200 الفاظ)

قرآن مجید میں کئی مقامات پر یتیموں کے حقوق کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“پس یتیم پر سختی نہ کرو۔”
(الضحی: 9)

ایک اور مقام پر فرمایا:
“اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر بہتر طریقے سے۔”
(الانعام: 152)

یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ یتیم کے ساتھ سختی کرنا سخت گناہ ہے۔ اسی طرح ان کے مال میں خیانت کرنا بھی حرام ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ یتیم کی دلجوئی کریں۔ ان کے مال کی حفاظت کریں۔

نبی کریم ﷺ کی شفقت سے یتیم بچے کو عید کے دن خوشی دینا – اسلامی ک

یتیم کی خدمت کے بارے میں احادیث ()

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص یتیم کو کھانا کھلائے اور اس کے ساتھ نرمی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے سایے میں جگہ دے گا۔”

ایک اور حدیث میں ہے:
“مسلمانوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔”

یہ احادیث اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ یتیم کی خدمت دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

آج کے دور میں یتیموں کے حقوق ()

ہمارے معاشرے میں یتیم بچے اکثر محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وہ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کبھی رشتہ دار ان کے مال پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں جیسا نبی کریم ﷺ نے کیا۔ یتیم بچوں کو تعلیم دلانا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی عمل ہمارے لیے سعادت ہے۔

سبق اور پیغام (100 الفاظ)

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ یتیم کے ساتھ شفقت کرنا صرف نیکی نہیں بلکہ جنت کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یتیم بچوں کی دلجوئی کریں۔ انہیں کبھی تنہا محسوس نہ ہونے دیں۔

اختتامیہ اور دعا (100 الفاظ)

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم یتیموں کے ساتھ محبت کریں۔ ان کے حقوق ادا کریں۔ ان کے دل کو خوش کریں۔

اے اللہ! ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرما۔ جنہیں قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی قربت نصیب ہو۔ آمین۔

FAQs

سوال 1: اسلام میں یتیم کی کفالت کی کیا اہمیت ہے؟

جواب: یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں نبی ﷺ کے قریب ہوگا۔

سوال 2: یتیم کا مال استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب: نہیں، یتیم کا مال امانت ہے۔ اس میں خیانت حرام ہے۔

سوال 3: آج ہم یتیموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

جواب: تعلیم دلانے، مالی مدد کرنے اور ان کے ساتھ شفقت سے۔                                                                                                          🔗 مزید مطالعہ کے لیے: IslamQA – یتیم کی کفالت کی فضیلت

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *