مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا اجر حدیث کی روشنی میں

مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا اجر حدیث کی روشنی میں

                                                                                                                    اسلامی تعلیمات اور بھائی کی مدد

اسلام ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں

 جگہ جگہ یہ حکم ملتا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ ایک مومن کے لیے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرے، چاہے وہ مدد مالی ہو، اخلاقی ہو یا صرف دعا کی صورت میں ہو۔

دنیا کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کوئی غربت کی مشکل میں ہوتا ہے، کبھی بیماری میں، اور کبھی تنہائی اور دکھ کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو یہ محض دنیاوی فائدہ نہیں بلکہ آخرت کا بہترین سرمایہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يسلمه”
یعنی مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے سہارا چھوڑتا ہے۔

یہ اصول ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک مسلمان تکلیف میں ہو تو دوسرا مسلمان سکون سے نہیں رہ سکتا۔                                                                  آج کے دور میں جہاں مادیت کا غلبہ ہے، وہاں بھائی کی مدد اور بھی ضروری ہو گئی ہے۔ یہ مدد مسکراہٹ دینے سے بھی ہو سکتی ہے۔ اچھے الفاظ سے حوصلہ دینا بھی مدد ہے۔ کسی ضرورت مند کو مالی سہارا دینا نیکی ہے۔ حتیٰ کہ دعا میں یاد رکھنا بھی مدد ہے۔

 

✨ احادیث مبارکہ میں مسلمان بھائی کی مدد کا اجر ()

 

نبی کریم ﷺ نے بے شمار احادیث میں مسلمان بھائی کی مدد کی فضیلت بیان کی ہے۔

1. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔” (بخاری و مسلم)

2. آپ ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے بھائی کی مدد کے لیے چلا، یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس دن اس کے قدموں کو ثابت رکھے گا جس دن قدم لڑکھڑا جائیں گے۔” (مسند احمد)

3. آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔” (صحیح مسلم)

یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ مسلمان بھائی کی مدد محض ایک سماجی عمل نہیں۔ یہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اس کا صلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہے۔

مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا اجر حدیث کی روشنی میں

✨ آج کے دور میں مسلمان بھائی کی مدد ()

موجودہ زمانے میں بھائی کی مدد کے کئی پہلو ہیں۔

مالی مدد: غربت اور مہنگائی کے اس دور میں مالی سہارا دینا بہت بڑی نیکی ہے۔ یہ صدقہ ہو سکتا ہے۔ یہ قرضِ حسنہ بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کے علاج کا انتظام بھی اس میں شامل ہے۔

اخلاقی مدد: بعض اوقات انسان کو پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ حوصلے کا طلبگار ہوتا ہے۔ نرم لہجے میں بات کرنا، تسلی دینا اور امید دلانا بھی مدد ہے۔

دعاؤں میں یاد رکھنا: اگر آپ کسی کو عملاً سہارا نہیں دے سکتے تو کم از کم دعا کریں۔ دعا تقدیر کو بدلنے والی طاقت ہے۔

علمی رہنمائی: صحیح مشورہ دینا بھی مدد ہے۔ کسی کو اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کرنا نیکی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد: آج انٹرنیٹ کے ذریعے بھی مدد ممکن ہے۔ کسی کے لیے فنڈز اکٹھے کرنا، آن لائن رہنمائی دینا یا مفید مواد شیئر کرنا سب مدد کے زمرے میں ہے۔

یہ تمام طریقے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مدد کے ذرائع بہت وسیع ہیں۔ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈال سکتا ہے۔

 

سوشل مدد اور معاشرتی ذمہ داریاں
آج کے دور میں مسلمان بھائی کی مدد صرف فرد کی سطح تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ہمیں معاشرے کی اجتماعی سطح پر بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی انسان بھوکا ہے تو یہ صرف اس کی ذاتی آزمائش نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی مدد کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔” (مسند احمد)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دوسروں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ آج اگر ہم اپنے پڑوسی، رشتہ دار یا کمیونٹی میں کسی ضرورت مند کی خبرگیری کریں تو معاشرہ خوشحال ہو جائے گا۔

اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی مدد ضروری ہے۔ اگر آپ کسی بچے کی فیس ادا کر سکتے ہیں یا کسی کو کتابیں فراہم کر سکتے ہیں تو یہ بھی مدد ہے۔ اس کا اجر اللہ کے نزدیک بہت عظیم ہے۔

اس دور میں وقت دینا بھی ایک قیمتی مدد ہے۔ بیمار کی عیادت کے لیے جانا، بزرگ والدین یا پڑوسی کو وقت دینا، یا کسی کو دلی سکون فراہم کرنا بھی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ بعض اوقات ایک توجہ بھرے لفظ سے دوسرے انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی بھائی چارہ تب قائم ہوتا ہے جب ہر مسلمان اپنی سہولت کے مطابق دوسروں کے کام آئے۔ چاہے وہ وقت ہو، پیسہ ہو، علم ہو یا صرف دعا – ہر مدد اللہ کے ہاں قبول کی جاتی ہے۔

✨ اختتامی کلمات ()

مسلمان بھائی کی مدد ایمان کی نشانی ہے۔ جو بندہ اپنے بھائی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے اور اس کے لیے آسانی پیدا کرے، وہ دراصل اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے۔

ایسا شخص دنیا میں عزت پاتا ہے۔ آخرت میں عظیم انعام اس کا منتظر ہوتا ہے۔

ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگی صرف اپنی ذات تک محدود نہ کریں۔ ارد گرد دیکھیں کہ کون مدد کا مستحق ہے۔ کبھی یہ مدد کھانے پینے کی صورت میں ہوگی۔ کبھی اچھے مشورے یا دعا کی شکل میں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھائی چارہ قائم کرنے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید تفصیل کے لیے یہاں پڑھیں”                                                                                                                                          اسلام اور بھائی چارہ – اسلام سوال و جواب

❓ FAQs

سوال 1: کیا مسلمان بھائی کی مدد صرف مالی مدد ہے؟
جواب: نہیں، مدد کے کئی پہلو ہیں: مالی، اخلاقی، علمی اور دعا میں یاد رکھنا سب شامل ہیں۔

سوال 2: کیا مدد کرنے سے دنیاوی فائدہ بھی ملتا ہے؟
جواب: جی ہاں، مدد کرنے والا شخص سکون پاتا ہے اور عزت بھی حاصل کرتا ہے۔

سوال 3: کیا حدیث میں مدد کرنے کا خاص اجر بتایا گیا ہے؟
جواب: جی ہاں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے، اللہ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔

سوال 4: آج کے دور میں ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کیسے ہو سکتی ہے؟

جواب: آن لائن فنڈ ریزنگ، رہنمائی، یا مثبت اسلامی مواد شیئر کرنا بھی مدد ہے۔                                                                                    مزید اس طرح کی پوسٹ دیکھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں www deenkiraah.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *