دین اور دنیا میں توازن کیسے قائم رکھا جائے؟
تعارف
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات کی تعلیم دیتا ہے بلکہ دنیاوی زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بھی بتاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین اور دنیا دو الگ چیزیں ہیں، حالانکہ اسلام کے نزدیک دین اور دنیا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی دنیاوی مصروفیات میں بھی اللہ کو یاد رکھے اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے۔
آج کے جدید دور میں جہاں انسان کاروبار، تعلیم، ملازمت اور معاشرتی سرگرمیوں میں مصروف ہے، وہیں عبادات اور اللہ کی یاد کو نظر انداز کرنا ایک عام رویہ بن گیا ہے۔ نتیجتاً ذہنی دباؤ، بے سکونی اور اخلاقی کمزوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ایک مسلمان دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم کرے تاکہ اس کی زندگی خوشحال، پرسکون اور بابرکت ہو۔
دین اور دنیا میں توازن کیوں ضروری ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح ہے کہ دین اور دنیا کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: > “وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا”
(القصص: 77
ترجمہ: “اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر تلاش کر، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھول۔”
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ آخرت کی تیاری سب سے اہم ہے لیکن دنیا کی ضروریات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
—
دین اور دنیا کے توازن کے فوائد
1. دل کو سکون ملتا ہے – عبادات اور ذکر الٰہی دلوں کو اطمینان بخشتے ہیں۔
2. وقت کی برکت – جو لوگ دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ان کے وقت میں اللہ برکت ڈالتا ہے۔
3. اخلاق میں بہتری – دین پر عمل انسان کو بہتر انسان اور بہتر شہری بناتا ہے۔
4. آخرت میں کامیابی – دنیا میں بھی سکون اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں عملی اصول
1. نیت کو خالص رکھنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” (بخاری)
یعنی دنیاوی کام بھی اگر اللہ کی رضا کے لیے کیے جائیں تو وہ عبادت بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر محنت مزدوری کرنا اگر اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔
2. وقت کی منصوبہ بندی
دنیاوی اور دینی ذمہ داریوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے وقت کی صحیح منصوبہ بندی ضروری ہے۔ نماز کے اوقات کو اپنی روزمرہ روٹین کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
3. حلال روزی کی کوشش
اسلام میں محنت اور حلال کمائی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
> “حلال روزی کمانا فرض کے بعد سب سے بڑا فرض ہے۔” (بیہقی)
4. سادہ زندگی اختیار کرنا
دنیاوی آسائشوں کے پیچھے اندھا دھند دوڑنے کے بجائے سادگی اور قناعت سے زندگی گزارنا دین اور دنیا میں توازن کا ذریعہ ہے۔
دین و دنیا میں توازن قائم رکھنے کے عملی طریقے
1. نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں
نماز دین کا ستون ہے اور یہ انسان کو منکرات اور برائیوں سے بچاتی ہے۔ مصروفیات چاہے جتنی بھی ہوں، نماز کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
2. ذکر و اذکار کو معمول بنائیں
چلتے پھرتے “سبحان اللہ”، “الحمدللہ” اور “اللہ اکبر” کا ورد انسان کے دل کو منور کرتا ہے اور دنیاوی کاموں میں بھی برکت ڈالتا ہے۔
3. علم و تعلیم کو اہمیت دیں
اسلام میں علم حاصل کرنا فرض ہے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ انسان دونوں میدانوں میں کامیاب ہو۔
4. اچھے اخلاق اپنائیں
اخلاقی کردار دنیاوی کامیابی کے ساتھ دینی تقاضا بھی ہے۔ قرآن و حدیث میں اچھے اخلاق کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
—
توازن کے بغیر زندگی کے نقصانات
صرف دنیا پر توجہ دینے سے انسان دین سے غافل ہو جاتا ہے اور آخرت برباد کر لیتا ہے۔
صرف دین پر توجہ دے کر دنیاوی ذمہ داریوں کو چھوڑ دینا بھی درست نہیں کیونکہ اسلام میں محنت اور خاندان کی کفالت کو فرض قرار دیا گیا ہے۔
توازن نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤ، مایوسی اور بے سکونی بڑھتی ہے۔

دین اور دنیا میں توازن کے لیے مثالیں
رسول اللہ ﷺ کی زندگی
آپ ﷺ نے دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بہترین مثال قائم کی۔ آپ ﷺ نہ صرف نبی اور امام تھے بلکہ ایک بہترین تاجر، شوہر، والد اور سربراہ بھی تھے۔
صحابہ کرام کی زندگیاں
حضرت ابو بکرؓ تاجر تھے، حضرت عثمانؓ مالدار تھے لیکن ساتھ ہی دین پر بھی قائم تھے۔ حضرت علیؓ نے بھی دین اور دنیا کے کاموں میں بہترین توازن قائم کیا۔
جدید دور میں توازن قائم رکھنے کے طریقے
1. ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال – سوشل میڈیا اور موبائل کو فضول کاموں کے بجائے دین کی خدمت اور تعلیم کے لیے استعمال کریں۔
2. کاروبار میں دیانت داری – تجارت یا ملازمت میں ایمانداری اپنانا دین اور دنیا دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
3. خاندان کے ساتھ وقت گزارنا – اسلام نے والدین، بیوی بچوں اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔
4. اعتدال اختیار کرنا – عبادات اور دنیاوی مشاغل میں اعتدال رکھنا سنتِ نبوی ہے۔
—



Pingback: نیت کی اہمیت اور اخلاص کا مقام: قرآن و حدیث کی روشنی میں - Deenkiraah