دل کی بے چینی اور ڈپریشن سے نجات کی دعائیں اور مسنون اذکار

دل کی بے چینی اور ڈپریشن سے نجات کی دعائیں اور مسنون اذکار قرآن و حدیث کی روشنی میں تصویر"

دل کی بے چینی اور پریشانی کو دور کرنے کی دعائیں اور اذکار

تعارف

آج کے دور میں ہر شخص ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور دل کی گھبراہٹ جیسی کیفیت سے دوچار ہے۔ دنیاوی مشکلات، روزگار کی پریشانیاں، خاندانی مسائل اور معاشرتی دباؤ انسان کے دل کو بے سکون کر دیتے ہیں۔ جدید سائنس بھی مانتی ہے کہ انسان کے دل کو سکون صرف ذہنی اور روحانی اطمینان سے ملتا ہے، اور یہ سکون صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہے۔

اسلام ہمیں نہ صرف عبادات سکھاتا ہے بلکہ دل کو سکون اور بے چینی سے نجات کا طریقہ بھی بتاتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ میں بے شمار دعائیں اور اذکار موجود ہیں جو دل کو اطمینان بخشتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان دعاؤں اور اذکار کو بیان کریں گے جو دل کی بے چینی اور پریشانی کو دور کرنے کا ذریعہ ہیں۔

قرآن میں سکون قلب کی رہنمائی

اللہ کا ذکر دل کو سکون دیتا ہے

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

> “أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(سورۃ الرعد: 28)

 

ترجمہ: “خبردار! دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔”

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی دنیاوی طریقہ انسان کو دل کا سکون نہیں دے سکتا۔ اصل سکون صرف اللہ کی یاد اور ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔

صبر اور توکل کا پیغام

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> “وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ”
(النحل: 127)

ترجمہ: “صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کے حکم سے ہے۔”

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بے چینی کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ کرنا مومن کا ہتھیار ہے۔

 

دل کی بے چینی اور گھبراہٹ دور کرنے کی مسنون دعائیں

. دل کی گھبراہٹ کے وقت کی دعا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ”
(بخاری و مسلم)

 

ترجمہ: “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عظیم اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔”

یہ دعا دل کی گھبراہٹ اور بے چینی کے وقت کثرت سے پڑھنی چاہیے۔

 

غم و فکر سے نجات کی دعا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ”
(ابوداؤد)

ترجمہ: “اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں غم اور فکر سے، اور عاجزی و سستی سے، اور بزدلی و بخل سے، اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے۔”

یہ دعا ہر مسلمان کو صبح و شام پڑھنی چاہیے تاکہ بے چینی اور ڈپریشن سے بچا جا سکے۔

 

نبی اکرم ﷺ جب کسی مشکل یا پریشانی میں ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:

> “يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ”
(نسائی)<

 <ترجمہ: “اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے قائم

رکھنے والے! میں تیری رحمت سے مدد مانگتا ہوں۔ میرے تمام معاملات درست فرما دے اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔”<

یہ دعا دل کی بے چینی کو دور کرتی ہے اور اللہ پر کامل بھروسے کا ذریعہ بنتی ہے۔

دل کی بے چینی اور ڈپریشن سے نجات کی دعائیں اور مسنون اذکار قرآن و حدیث کی روشنی میں تصویر"

. پریشانی کے وقت کی جامع دعا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ”
(التوبہ: 129)

 

ترجمہ: “میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔”

یہ آیت بے سکونی اور مشکلات کے وقت دل کو تسلی دیتی ہے۔

روزانہ کے اذکار کی اہمیت

روزمرہ زندگی میں بے چینی اور ڈپریشن سے بچنے کے لیے صبح و شام کے اذکار پڑھنا بہت ضروری ہے۔

صبح و شام کے چند اذکار:

1. آیت الکرسی (ہر نماز کے بعد اور صبح شام)

2. سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس (صبح و شام تین مرتبہ)

3. سبحان اللہ و بحمدہ 100 بار روزانہ

4. لا حول و لا قوة الا بالله کثرت سے پڑھنا

یہ اذکار دل کو سکون دیتے ہیں، ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور انسان کو اللہ کی یاد میں مصروف رکھتے ہیں۔

عملی طریقے اور صبر و توکل

نماز کی پابندی بے چینی کو دور کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔

قرآن کی تلاوت دل کو سکون دیتی ہے۔

صبر اور توکل کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے والا مومن کبھی شکست نہیں کھاتا۔

دعا کو معمول بنائیں اور ہر حال میں اللہ سے مدد مانگیں۔

آج کے دور میں دل کی بے چینی

آج کے دور میں دل کی بے چینی ایک عام مسئلہ بن چکی ہے۔ انسان کے پاس دنیاوی سہولتیں، جدید ٹیکنالوجی اور ظاہری آسائشیں تو بڑھ گئی ہیں لیکن دلوں سے سکون اور اطمینان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص فکروں، پریشانیوں اور مستقبل کے خوف میں مبتلا ہے۔ مقابلے کی زندگی، نوکری کا دباؤ، خاندانی مسائل اور دنیاوی خواہشات نے انسان کے دل کو تھکن اور بے سکونی کا شکار بنا دیا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن کی ہدایت سے دوری اختیار کر لی ہے۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقی سکون دنیاوی چیزوں میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور دعاؤں میں ہے۔ جو دل اللہ کو یاد کرتا ہے وہی دل مطمئن رہتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: “یقیناً دلوں کو سکون اللہ کے ذکر سے ملتا ہے” (سورۃ الرعد 28)۔

اختتامیہ اور دعا

بے چینی، گھبراہٹ اور ڈپریشن کی اصل دوا قرآن و حدیث میں موجود اذکار اور دعائیں ہیں۔ دنیاوی طریقے وقتی سکون دے سکتے ہیں لیکن دائمی سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے۔

دعا:
اے اللہ! ہمارے دلوں سے ہر قسم کی بے چینی، گھبراہٹ اور ڈپریشن کو دور فرما، ہمیں صبر، سکون اور توکل عطا فرما، اور ہمیں اپنی یاد میں مشغول رکھنے والا بنا۔ آمین۔

FAQs

سوال 1: کیا صرف دعاؤں سے بے چینی ختم ہو سکتی ہے؟
جواب: دعاؤں اور اذکار سے روحانی سکون ملتا ہے، ساتھ ہی صبر، نماز اور مثبت طرزِ فکر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔

سوال 2: سب سے زیادہ مؤثر دعا کون سی ہے؟
جواب: “اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ” والی دعا ڈپریشن اور بے چینی دور کرنے کے لیے بہت مؤثر ہے۔

سوال 3: کیا ڈپریشن کے مریض کو اذکار پڑھنے چاہئیں؟
جواب: جی ہاں! اذکار پڑھنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور علاج کے ساتھ ساتھ یہ بہترین روحانی دوا ہے۔

سوال 4: کیا صبح و شام کے اذکار دل کی بے چینی دور کرتے ہیں؟
جواب: جی بالکل! صبح و شام کے اذکار دل کو مضبوط اور بے چینی کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

مزید تفصیل اور اذکار کے لیے آپ یہ لنک دیکھ سکتے ہیں:

اسلامک اذکار – Islamqa.info

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *