اللّٰہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل – حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
تعارف ()
اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے ہدایت موجود ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت عمل کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما نیت اور اخلاص کی ہے۔ دین اسلام میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اگر اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو وہ قیامت کے دن بہت بڑا مقام رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
“فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَهُ، وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَهُ”
(الزلزال: 7-8)
ترجمہ: “پس جو کوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھے گا۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نیکی چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی برائی چھوٹی بھی ہو تو اس کا حساب ضرور ہوگا۔
اسلامی تعلیمات میں بڑے اعمال جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ عمل زیادہ پسند ہے جو مستقل کیا جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو یہی بات سمجھائی کہ عمل میں تسلسل ہی اصل کامیابی ہے۔ بڑے بڑے اعمال کبھی کبھار کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال کو روزانہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ”
(صحیح بخاری و مسلم)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مستقل کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔”
یہ حدیث ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ چھوٹی نیکیاں جب عادت بن جائیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جو انسان کو اللہ کی قربت اور محبت عطا کرتا ہے۔
—
حدیث کا بیان (300 الفاظ)
نبی کریم ﷺ کا فرمان:
“أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ”
(بخاری و مسلم)
یہ جامع اور مختصر حدیث ہمیں اسلام کے عملی پہلو کی جھلک دکھاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عبادت کے فلسفے کو ایک جملے میں سمو دیا ہے۔ اس حدیث سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو انسان مسلسل کرتا رہے۔
عمل کا چھوٹا ہونا یا بڑا ہونا اہم نہیں ہے، بلکہ مستقل مزاجی اور اخلاص زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان روزانہ دو رکعت تہجد پڑھتا ہے، روزانہ چند آیات قرآن پڑھتا ہے یا روزانہ کسی کو مسکرا کر خوش کرتا ہے تو یہ چھوٹے اعمال مسلسل کرنے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک عظیم بن جاتے ہیں۔
یہ تعلیم ہمیں سستی، بے عملی اور صرف وقتی جوش سے بچاتی ہے۔ اسلام ہمیں استقامت اور توازن سکھاتا ہے تاکہ ہم زندگی بھر عبادت اور نیکی کے راستے پر قائم رہ سکیں۔
—
محبوب اعمال کی مثالیں ()
1. نماز میں استقامت
صرف فرض نمازیں ہی نہیں بلکہ سنت و نفل کا معمول بنانا بھی محبوب عمل ہے۔ روزانہ دو رکعت اشراق یا تہجد پڑھنے کی عادت انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے
2. قرآن کی تلاوت
چاہے روزانہ ایک صفحہ یا صرف چند آیات ہوں، لیکن مسلسل تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
3. صدقہ و خیرات
بہت زیادہ صدقہ کبھی کبھار دینے سے بہتر یہ ہے کہ معمولی سا صدقہ بھی روزانہ دیا جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “صدقہ گناہوں کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔”
4. والدین کی خدمت
روزانہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان کی دعائیں لینا، یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔
5. مسکراہٹ اور خوش اخلاقی
نبی ﷺ نے فرمایا: “تمہاری مسکراہٹ بھی صدقہ ہے۔” مستقل مسکراہٹ اور نرمی دوسروں کے دل جیتنے کا ذریعہ ہے۔
6. صبر اور برداشت
زندگی کے نشیب و فراز میں صبر کرنے والا بندہ اللہ کے نزدیک خاص مقام رکھتا ہے۔ صبر میں استقامت سب سے محبوب عمل ہے۔
7. ذکر و دعا
روزانہ صبح و شام کے اذکار اور مختصر دعاؤں کو معمول بنانا بھی محبوب عمل ہے۔
آج کے دور میں عمل کی استقامت ()
آج کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ نیکی اور عبادات میں تسلسل قائم نہیں رکھ پاتے۔ کبھی رمضان میں عبادت کا جوش ہوتا ہے اور پھر سال بھر غفلت چھا جاتی ہے۔ کبھی تہجد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن چند دن بعد سستی آ جاتی ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں اس حدیث کی تعلیم ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی سکھاتا ہے۔ چھوٹا سا عمل بھی اگر عادت بن جائے تو وہ انسان کی شخصیت بدل دیتا ہے۔
مثال کے طور پر:
روزانہ سونے سے پہلے سورہ ملک پڑھنے کی عادت۔
کھانے سے پہلے اور بعد میں بسم اللہ اور دعا پڑھنا۔
دن میں کم از کم ایک نیکی کرنا، جیسے کسی کو سلام کرنا یا راستے سے کانٹا ہٹانا۔یہ چھوٹے عمل بظاہر عام لگتے ہیں لیکن مستقل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب بن جاتے ہیں۔

اخلاص اور نیت کا تعلق ()
نیت ہی ہر عمل کی بنیاد ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى”
(بخاری و مسلم)
ترجمہ: “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔”
اگر نیت اللہ کی رضا کی ہو تو چھوٹا سا عمل بھی جنت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر نیت دکھاوے یا دنیاوی فائدے کی ہو تو بڑے بڑے اعمال بھی فضول ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے اخلاص کے ساتھ مستقل نیکی کرنا سب سے محبوب عمل ہے۔
—
اختتامیہ اور دعا ()
یہ حدیث ہمیں ایک سنہری اصول دیتی ہے: چھوٹے مگر مستقل نیک اعمال کو اپناؤ۔ یہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب ہیں۔
اے اللہ! ہمیں اپنی زندگی میں ایسے محبوب اعمال کرنے کی توفیق دے جو اخلاص کے ساتھ مستقل کیے جائیں۔ ہماری عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب بنا۔ آمین۔
—
FAQs
سوال 1: اللہ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟
جواب: وہ عمل جو اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ کیا جائے، خواہ تھوڑا ہی ہو۔
سوال 2: کیا بڑے اعمال زیادہ افضل ہیں یا چھوٹے اعمال میں تسلسل؟
جواب: چھوٹے اعمال میں تسلسل بڑے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں اگر نیت خالص ہو۔
سوال 3: اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
جواب: ہمیں نیکی کے کسی عمل کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے اور اس پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔
سوال 4: کیا دنیاوی مصروفیات کے باوجود چھوٹے اعمال کیے جا سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، دن کا کچھ وقت نکال کر قرآن، دعا یا والدین کی خدمت جیسے اعمال کیے جا سکتے ہیں۔
سوال 5: کیا نیت کے بغیر عمل کا کوئی فائدہ ہے؟
جواب: نہیں، ہر عمل کی قبولیت نیت پر ہے۔ اگر نیت اللہ کے لیے ہو تو عمل قبول ہوتا ہے۔
🔗 مزید رہنمائی کے لیے پڑھیں: IslamQA – اعمال کی اہمیت


